مدارس محسن ملت

حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر کے سابق پرنسپل محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی رحمتہ اللہ علیہ کی تحریک پر ملک کے گوشے گوشے میں دینی مدارس کا قیام عمل میں آیا۔ان میں کچھ مدارس ایسے ہیں جو مقامی مومنین کرام کی ذاتی کوشش اور جامعہ کی سرپرستی و تعاون سے تشکیل پائے ہیں اور کچھ مدارس ایسے ہیں جو براہ راست جامعہ کی زیرنگرانی دینی خدمات سرانجام دےرہے ہیں۔

ان مدارس کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ مزید تفصیل جاننے کے لیے مطلوبہ مدرسہ کے نام پر کلک کیجیے۔

جامعہ علمیہ (کراچی)

مدرسہ کی ذاتی عمارت ہے جو جامعہ علمیہ ٹرسٹ نے تعمیر کی ہے۔اس وقت تک دو بلاک تعمیر ہو چکے ہیں۔ہر بلاک 18 کمروں پر مشتمل ہے۔اس میں سے ایک بلاک طلباء کی رہائش کے لئے جبکہ دسرا کلاس رومز،دفتر،اور لائبریری وغیرہ کے لیے مخصوص ہیں۔اس کے علاوہ مدرسین کی رہائش کےلیے بھی دو بلاک تعمیرشدہ ہیں۔ جن میں سے ہر بلاک 8 عدد فلیٹس پر مشتمل ہے،بجلی،پانی اور گیس کا مناسب انتظام موجود ہے۔ جامعہ ہذا میں ۔۔۔

جامعتہ الرضا (روھڑی، سکھر)

مدرسہ کا کل رقبہ چار ایکڑ ہے۔جو کہ سید خادم علی شاہ نے وقف کیا تھا۔ مدرسہ کے ایک طرف نیشنل ہائے وے (لاہور۔کراچی)جبکہ دوسری طرف روہڑی ریلوے اسٹیشن واقع ہے۔ مدرسہ کی عمارت ذاتی ہے۔جس میں طلاب کے لیے چودہ کمرے دوکلاس روم ایک لائبریری دو ہال باورچی خانہ ایک کمرہ چوکیدار کے لیے ایک مسجد ،تین غسل خانےاور چھ بیت الخلاء تعمیر شدہ ہیں،ان کے علاوہ مدرسین کے بھی رہائشی مکانات تعمیر شدہ ہیں نیز پانچ ۔۔۔

جامعہ امام حسین (خانقاہ ڈوگراں شیخوپورہ)

مدرسہ کا کل رقبہ کافی زیادہ ہے۔ جبکہ تعمیر شدہ اور استعمال میں آنے والا رقبہ 4 کنال ہے۔ یہ رقبہ حاجی میاں بشیر احمد ڈوگر، میاں نصرت عباس ڈوگراور میاں حسیب حسین ڈوگر نےعطیہ کیا ہے۔ نو کمرے تیار ہوچکے ہیں۔ داخلے کےلیے شرط ہے کہ طالب علم میٹرک پاس ہو یا اسکے مساوی دینی تعلیم حاصل کی ہو۔ طلبہ کو وظیفہ دیا جاتا ہے۔ مدرسہ کی لائبریری دو سو کے لگ بھگ کتب پر مشتمل ہے محلہ کے بچےبھی مدرسہ میں پڑھنے ہیں جن کو ضروری دینی تعلیم دی جاتی ہے بجلی اور ۔۔۔

جامعہ نقویہ (آزاد کشمیر)

مدرسہ کا کل رقبہ تقریبا آٹھ کنال ہے جو کہ سید فضل حسین نقوی مرحوم، سید طالب حسین شاہ مرحوم اور سید فیاض حسین نقوی نے مدرسہ کےنام وقف کیا تھا۔ مدرسہ کی عمارت دو منزلہ ہے پہلی منزل پر چھ کمرے طلباء کے لیے جبکہ دوسری منزل پر مولانا موصوف کی رہائش گاہ ہے۔ مدرسہ سے ملحق ایک بہترین مسجد بھی تعمیر شدہ ہے۔ جس کا افتتاح علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی ۔۔۔

مدرسہ رضویہ (صالح پٹ،سکھر)

مدرسہ کا کل رقبہ پانچ ایکڑ ہے۔ جو کہ مولانا سید عالم موسوی اور مولانا سید ارشاد حسین نقوی نے وقف کیا۔ مدرسہ کی عمارت ذاتی ہے جس میں 3 کمرے اور مدرسین کے لیے دو رہائشی مکانات تعمیر شدہ ہیں۔ مدرسہ میں پانی اوربجلی کا مناسب انتظام ہے۔ پرائمری پاس طالب علم کو مدرسہ میں داخلہ دیا جاتاہے۔ طلباء کو فن خطابت، تدریس اورتحریر کی جانب متوجہ کیا جاتاہے۔ مدرسہ جامعتہ المنتظر کےزیر انتظام چلتا ہے مدرسہ ۔۔۔

جامعہ قرآن وعترت (نارووال)

مدرسہ کا کل رقبہ تقریبا نو کنال ہے مدرسہ کی عمارت ذاتی ہے جس میں طلبہ کے لیے پانچ رہائشی کمرے اور تین کلاس روم مدرسین کے لیے دو رہائشی مکانات جبکہ دو مکانات ملازمین کے لیے تعمیر شدہ ہیں، مدرسہ میں باقاعدہ آغاز تدریس 9 فروری 1990 ء کو ہوا۔مدرسہ میں داخل ہونے کے لیے لازمی ہے کہ ۔۔۔

جامعہ مھدویہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)

مدرسہ کا رقبہ 10 کنال ہے یہ رقبہ قیمتا خریدا گیا۔ مدرسہ کی اپنی 11 دکانیں ہیں۔ مدرسہ کی عمارت 16 کمروں2 رہائشی مکانات پر مشتمل ہے مدرسہ کی مسجد بہت خوبصورت ہے۔ ایک تہہ خانہ بھی ہے ایک ہال علامہ سید صفدرحسین نجفی مرحوم سے منسوب ہے۔ قائم آل محمد لائبریری بھی ہے جس میں مختلف فنون کی 5 سو کتب موجود ہیں داخلے کے لئے مڈل پاس ۔۔۔

جامعہ آل محمد (جن پور،رحیم یار خان)

مدرسہ کا کل رقبہ نوکنال ہے اسے سید ہادی حسن شاہ زیدی الواسطی المعروف مفتی صاحب اور براداران سید ابن علی شاہ نے مدرسہ کے نام وقف کیا ہے اس کے علاوہ نو کنال زرعی زمین رحیم بخش دستی مرحوم ان کے بھائی عبدالمجید اور چچا زاد بھائی کالو خان اور لالو خان نے مدرسہ کو عطیہ دی ہے۔ انشاءاللہ مفتی صاحب کے برادر حقیقی سید مجاہد حسین شاہ طالبات کے درس کے لئے 3 کنال زمین مدرسہ کو وقف کر ۔۔۔

جامعہ رضویہ عزیزالمدارس (چیچہ وطنی،ساہیوال)

مدرسہ میں تدریس کا آغاز یکم اپریل 1979 ء سے ہوا۔ مدرسہ کی عمارت ذاتی ہے۔ مدرسہ کا کل رقبہ چار کنال آٹھ مرلہ ہے اضافی رقبہ ملا کر کل چھ کنال بن جاتا ہےجو کہ الحاج شیخ رضا علی مرحوم اور شیخ برکت علی شہید نے مدرسہ کے نام وقف کیا۔ کل بیس کمرےرہائشی ہیں، ایک وسیع تہہ خانہ ہے جسے بطور مسجد استعمال کیاجاتاہے۔ چھ غسل خانے،چھ طہارت خانے،تہہ خانہ،گراؤنڈ فلور تعمیر شدہ مکمل ہے۔ پہلی منزل ۔۔۔

جامعہ مرتضویہ (وہاڑی)

سب سے پہلے 1944ء کے لگ بھگ انجمن حیدریہ کے زیر اہتمام امام بارگاہ کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کی تعمیر بعد میں بتدریج ہوتی رہی۔ چوہدری حاکم علی مرحوم نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ 1980ء میں مسجد کےلیے پلاٹ خرید کیا گیا اور اس کی تعمیر شروع کی گئی۔ یہ مسجد امام بارگاہ سے ملحق ہے اور اسے شہر کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔۔۔

جامعہ امام سجاد (جھنگ)

اس مدرسہ کا رقبہ ساڑھے چار کنال ہے یہ رقبہ رقیہ بیگم عرف جمیلہ بیگم زوجہ خان محمد عارف خان نے وقف کیا۔ مدرسہ 5 کمروں اور دو ہال پر مشتمل ہے اس مدرسہ کی بنیاد 1992ء میں رکھی گئی لیکن تدریس کا آغاز 22 جنوری1993ء کو ہوا داخلے کے لئے شرط ہے کہ مڈل پاس ہو۔ مدرسہ جامعتہ المنتظر ۔۔۔

جامعہ آیت اللہ خوئی (شورکوٹ،جھنگ)

اس مدرسہ کا سابقہ نام مدرسہ رسول اعظم تھا جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے "مدرسہ الامام الخوئی" رکھا گیا۔ 1965ء میں یہ جگہ صرف 5 مرلہ تھی جو ملنگ محمد طفیل کی وساطت سے ملی تھی اب اس کا رقبہ 2 کنال 10 مرلے ہے۔ مدرسہ کی اپنی عمارت ہے مدرسہ کے 6 کمرے ایک لائبریری اور ایک رہائشی مکان تعمیر شدہ ہے مدرسہ کے فرنٹ پر 6 دکانیں تعمیر شدہ ہیں یہ دوکانیں کرایہ پر دی گئی ہیں مولانا سید صفدر حسین نجفی مرحوم نے ۔۔۔

مدرسہ مدینۃالعلم (قلعہ ستار شاہ،شیخوپورہ)

اس مدرسہ کا افتتاح اگست 1988 ء بمطابق ذوالحجہ ۱۴۰۸ھ کو ہوا۔ رئیس اعظم مخدوم سید منظورحسین بخاری سابقہ ایم پی اے مرحوم نے باسٹھ کنال ایک مرلہ کا ذاتی رقبہ جامعتہ المنتظر لاہور کے نام وقف کیا۔ مرحوم کے فرزند سید علی عباس بخاری المعروف گل آغا آج کل ایم پی ہیں بعد ازاں بیس کنال رقبہ اس رقبہ سے متصل برائے جامع مسجد خدیجتہ الکبری مقامی سادات و مومنین نے اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے وقف کر دیا۔ اس ۔۔۔

جامعۃالزہراء۔ طالبات (لاہور)

اس مدرسہ کےبانی مولانا محمد اسلم صادقی ہیں،یہ مدرسہ حوزہ علمیہ بقتہ اللہ کے اندرہی تعمیر ہورہاہے۔اس وقت تک طالبات کے لیے 8 کلاس روم اور ہاسٹل کے 22 کمرے تعمیر ہوچکے ہیں،فی الحال طالبات طلباء کے کلاس رومز میں اقامت پذیرہو کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔داخلہ کی شرط کم از کم میٹرک۔لیکن اگر کوئی طالبہ پانچ سال سے ۔۔۔

مدرسہ ولی عصر (سکردو)

40 کنال وقف شدہ مدرسہ کی ذاتی اراضی ہے جو حاجی محمد ارشد نے وقف کی۔ تعمیر شدہ کمرے 8 ہیں۔ بجلی و پانی کا معقول انتظام ہے۔ مڈل پاس طلبہ کو والدین کی درخواست پر /2000 روپے زرزمانت کے ساتھ جس پر علاقے کےعالم دین کی سفارش ہو دیا جاتا ہے۔ طلبہ کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ مدرسہ میں تجوید کا شعبہ موجودہے۔ جس کے مسؤل قاری مولانا محمد محمد ابراہیم حیدری ہیں۔ مدرسہ ۔۔۔

جامعہ مدینۃالعلم (چوھنگ،لاہور)

چوہنگ لاہور میں واقع اس مدرسہ میں حفظ قرآن کا خصوصی شعبہ کام کر رہا ہے۔

جامعہ مدینۃالعلم (بھارہ کہو،اسلام آباد)

کیانی روڈ بارہ کہو اسلام آباد میں امام بارگاہ مربی کی بالائی منزل پر جامعہ مدینتہ العلم کی تعمیر کا منصو بہ ہے۔ یہ زمین مقامی سادات و انجمن مومنین و سادات (رجسٹرڈ) بہارہ کہو نے ایک معاہدے کے ذریعے جامعہ مدینتہ العلم ٹرسٹ(رجسٹرڈ) کی تولیت میں دی ہے۔ اس کا رقبہ تقریبا دو کنال ہے اس ۔۔۔

مدرسہ محمدیہ (جلال پورجدید،سرگودھا)

مدرسہ کی عمارت ذاتی ہے مدرسہ کےنام 2 مربع زمین وقف ہے مدرسہ کےساتھ قدیم مسجد بھی ہے۔ جس کی بنیاد محمد علی مرحوم نے رکھی۔ گاؤں کی اکثریت آبادی شیعہ ہے۔ 5 کمرے اور ایک ہال تعمیر شدہ ہے ۔۔۔

دارلہدٰی محمدیہ (علی پور،ضلع مظفر گڑھ)

مدرسہ کا رقبہ تقریبا چار کنال ہے۔ یہ رقبہ سید عباس علی زیدی نے وقف کیا ہے۔ ایک مسجد بھی تعمیرشدہ ہے۔ اور ساتھ ایک مقبرہ ہے جس میں استاذالعلماء علامہ سید محمد یارشاہ نجفی مرحوم اور علامہ حافظ محمد سبطین نقوی مرحوم مدفون ہیں اس مسجد اور مقبرہ کا رقبہ ایک کنال ہے ۔۔۔

مدرسہ امام المنتظر (جتوئی، ضلع مظفر گڑھ)

جھگی والہ تحصیل جتوئی ضلع مظفرگڑھ میں چند سال پہلے اس درسگاہ نے کا شروع کیا جامعۃالمنتظر کے فارغ التحصیل نوجوان عالم دین یہ مدرسہ چلا رہے ہیں۔

مدرسہ جعفریہ (جنڈ، ضلع اٹک)

مدرسہ میں باقاعدہ تدریس کا آغاز1990 ء میں ہوا۔مدرسہ کا کل رقبہ 14 کنال ہے۔ یہ زمین مولانا ملک ذوالفقار علی خان اور ان کے برادران نے وقف کی ہے اس وقت تک مدرسہ میں 6 کمرے، ایک ہال، باورچی خانہ اور طہارت خانے تعمیر ہوچکے ہیں اسی ۔۔۔

جامعہ مدینۃالعلم (تریٹ، مری)

مدرسہ کا کل رقبہ سات کنال ہے جو کہ مولانا قاضی سید نیاز حسین نقوی نے خرید کر مدینتہ العلم ٹرسٹ کے نام وقف کیا مدرسہ کی ذاتی عمارت تعمیر ہورہی ہے جبکہ 8 کمرے مع برآمدہ دوہال، باورچی خانہ اور مدرس کے لئے ایک رہائشی مکان تعمیر شدہ ہے۔ مدرسہ میں جیسے ہی تعمیرات مکمل ہوجائیں گی درس و تدریس شروع ہو جائے گی۔ مدرسہ ۔۔۔

بیرون از پاکستان مدارس محسن ملت

جامعۃالمنتظر (برطانیہ)

انگلستان کے شہر مانچسٹر میں جامعۃالمنتظر ہی کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔ جامعۃالمنتظر لاہور کے ایک فارغ التحصیل عالم دین اس کے تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ مرکز پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا منفرد مقام ہے اس میں زیرتعلیم طلبہ کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں کچھ نو مسلم بھی ہیں۔ اس مدرسہ کی ترقی اور پیش رفت سے پورے ملک کی علمی پیاس بجھ سکتی ہے۔

جامعہ ولی عصر (امریکہ)

امریکہ میں جامعہ ولی العصر کے نام سے اہم دینی مرکز کافی عرصہ سے سرگرم عمل ہے اور مقامی افراد کی دینی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ اس کا رقبہ 4 ایکڑ پر مشتمل ہے۔

مدرسہ امام المنتظر(قم،ایران)

حوزہ علمیہ قم میں پاکستانی طلبہ کی ضرورت کے پیش نظر جامعۃ المنتظر کے نام سے ایک مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ گذشتہ چند سال سے اس کے ایک حصہ میں الجامعۃ المصطفٰی العالمیہ کے زیر نظر مدرسہ امام علی قائم ہےجس میں پاک و ہند کے طلباء زیر تعلیم ہیں۔ اس عمارت میں دیگر شعبہ جات کے علاوہ موَسسہ الامام المنتظر کے نام سے علمی، تحقیقی، مطبوعاتی ادارہ کام کر رہا ہے۔ جس ۔۔۔

جامعۃالمنتظر برائے طالبات (قم،ایران)

مدرسہ المنتظر قم کی عمارت کے ایک حصہ میں 1998ء سے یہ مدرسہ کام کر رہا ہے۔ طالبات کی تعداد 50 ہے۔

جامعۃالمنتظر (مشہد مقدس،ایران)

مشہد مقدس ایران میں مدرسہ کے لیے جگہ حاصل کر لی گئی ہے انشاءاللہ تعمیراتی کام کا آغاز جلد ہو جائے گا۔