تعارف

معلم انسانیت، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشہور ارشاد ہے اطلبوالعلم من المھد الی اللحد۔ یعنی گہوارہ سے گور تک علم حاصل کرو۔ علم، انسان کی بنیادی و دائمی ضرورت ہے۔ پیدائش سے موت تک کسی نہ کسی شکل میں ہر آدمی علم کی احتیاج رکھتا ہے۔ لہذا انسان کے خالق نے اپنے نمائندے کی زبانی زندگی بھر اس کا حصول لازم قرار دیا ہے۔اس فرمان سے، ان اداروں کی دائمی ضروریات اور غیر معمولی اہمیت کا اندازہ ہوناہے۔ جہاں سے علم کا حصول اور اس کی نشر و اشاعت ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت وطن عزیز میں الہی علوم کی تدریس کے چند ہی مراکز تھے آغاز کار میں جن بزرگان نے موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر دینی مدارس کی تاسیس کی اور اس شعبہ میں پیش رفت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں ان میں جناب مولانا سید محمد باقر نقوی اعلی اللہ مقامہ، حیدرآباد، اور جناب مولانا غلام مہدی نجفی اعلی اللہ مقامہ،وا گھریجی سندھ سرفہرست ہیں۔

حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاھور

حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر کی تاسیس 1954 میں ھوئی ۔ جناب الحاج شیخ محمد طفیل کو اس عظیم کام کے آغاز کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت کے لاھور کے اہم علاقہ موچی دروازہ میں حسینہ ہال ایک سو روپے ماہوار کرایے پر حاصل کیا گیا ۔ 1956 ء میں ادارہ رجسٹرڈ کرایا گیا۔ 1958 ء میں ایک عمارت محلہ داراشکوہ میں خریدی گئی مگر محکمہ اوقاف سے تنازعہ کی بنا پر استعمال میں نہ لائی جا سکی۔ دسمبر 1960 ء میں دارالشریعہ وسن پورہ 32 ہزار روپے میں خریدا گیا۔ 1965 ء میں جامعتہ المنتظر کا ٹرسٹ تشکیل پایا۔ 1969 ء عالی جناب خان بہادر سید محمد حسین نقوی، حاجی شیخ غلام حسین اور جناب محمد عباس مرزا کی کاوشوں سے حسینی ٹرسٹ ماڈل ٹاؤن نے ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن میں 21 کنال سے زائد رقبہ جامعتہ المنتظر کے لئے وقف کیا اس طرح دونوں ٹرسٹ، باہمی انضمام سے خدمت دین و تعلیمات اہلبیت کی نشر و اشاعت کے لئے یکجا ہو گئے۔

خدائے تعالی کا جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہے الحمد اللہ حوزہ علمیہ جامععتہ المنتظر لاہور خدا تعالی کے فضل ، محمد و آل محمد علیہ السلام کی برکت، وابستگان کی انتھک کوششوں اور جملہ مومنین کی دعاؤں سے اپنی علمی زندگی کے پچاس سال پورے کر چکا ہے، اس پچاس سالہ دور میں کچھ انقلاب بھی آئے نشیب و فراز کا سامنا بھی رہا۔ کبھی ملکی سربراہ خود یہاں تشریف لائے اور کبھی پولیس کو یہاں لوٹ مار اور دہشت پھیلانے کیلئے بھیج دیا۔ اچھے اور سنہری ایام کے ساتھ ساتھ سختیوں کے دور بھی آتے رہے۔ مگر یہ علمی مرکز اپنے علمی سفر کی جانب رواں دواں رہا۔ حتی کہ پچاسواں سنگ میل بھی عبورکرگیا۔ علم کی روشنی پھیلانا تو اس کا بنیادی ہدف تھا ہی مگر اسکے علاوہ اس ادارہ نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی وہ کونسی مذہبی اور قومی تحریک بھی جس کو اس ادارہ سے کمک حاصل نہیں ہوئی۔

حوزہ علمیہ جہاں ایک قومی یونیورسٹی ہے وہاں قوم کی امیدوں اور امنگوں کا مرکز بھی ہے۔ جب بھی کوئی مشکل مقام آیا ہے اس ادارہ نے مکمل رہنمائی کی ہے۔ اور اس کا تدارک کرنے کی سعی کی ہے۔

انقلاب ایران کو مکمل طور پر پاکستان کی سطح تک بلکہ بیرون ملک بھی روشناس کرایا ہے۔ اس انقلاب کی برکتوں کے ذکر میں جامعتہ المنتظر اور اس کےمتعلقین خصوصا ابوذر زمان حضرت آقائی سید صفدر حسین نجفی اعلی اللہ مقامہ ، جو اس حوزہ علمیہ کے ایک مدت تک پرنسپل رہے۔ کا نام ضرور آئے گا کیونکہ

اتنا کہاں بہار کی رنگینوں میں جوش

شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا

جہاں اس حوزہ علمیہ نے دیگر مراکز اور دینی مدارس کا اجراء کیا ہے وہاں اسلامی لٹریچر اور تظریات کو بھی عام کیا ہے۔ وہاں ساتھ ساتھ بھکر کنونشن سے لے کر اسلام آباد کے اجتماع تک کراچی کی شورش سےلے کر کوئٹہ کی گرفتاریوں تک ھنگو کے قتل عام سے لے کر سیالکوٹ کی شہادتوں تک جامعہ کی خدمات کو نہیں بھلایا جاسکتا۔

اس لئے یہ کہنے میں کوئی باک نہ ہو گا کہ گلگت کے پہاڑوں سے لے کر کرچی کے ساحلوں تک کوئٹہ کے سہاروں سے لے کر لاہور کے مرغزاروں تک جہاں جامعہ کے علم کی کرنیں پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں ساتھ ساتھ قومی خدمات کےستارے بھی چمکتے نظر آتے ہیں دعا ہے کہ۔

اے خدا ایں جامعہ قائم بدار

فیض او جاری بود لیل و نہار